کالمز

علامہ خادم حسین رضوی رحمۃ اللہ علیہ: مجاہدِ حرمتِ مقدساتِ دین

علامہ خادم حسین رضوی رحمۃ اللہ علیہ
علامہ خادم حسین رضوی رحمۃ اللہ علیہ

علامہ خادم حسین رضوی رحمۃ اللہ علیہ: مجاہدِ حرمتِ مقدساتِ دین :

اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولِ مکرمِ اسلام ﷺ کے سچے محب، پاسبانِ ختمِ نبوت، محافظِ ناموسِ رسالت ﷺ، مجاہدِ حرمتِ مقدساتِ دین، علامہ خادم حسین رضوی رحمتہ اللہ علیہ دَرِ ایلِ مالیہ آن، بان اور شان کے ساتھ جیئے اور اس سے بھی بڑی شان کے ساتھ عازمِ سفرِ آخرت ہوئے۔

جیئے تو لبرلز کے سینے پر مونگ دلتے رہے، اُن کے دلوں میں کھٹکتے رہے، آنکھوں میں کھٹکتے رہے، اور سفرِ آخرت پر چلے تو سب کو شرمسار کر گئے۔ سارے لبرلز زندگی میں انہیں کوستے رہے، دل کی بھڑاس نکالتے رہے، اپنی دانست میں اُن کے ویڈیو کلپس نکال نکال کر عوام کے دلوں میں اُن کے وقار کو کم کرنے کی سعی کرتے رہے، لیکن اُن کی وفات کے بعد وہی لوگ عوام کے دلوں میں اُن کی بے پناہ محبت کے مظاہر دیکھ کر عظمت کا اعتراف کرنے پر مجبور ہو گئے۔

فیض احمد فیض نے شاید انہی کے لیے کہا تھا:

میرے چارہ گر کو نوید ہو، صفِ دشمناں کو خبر کرو

جو وہ قرض رکھتے تھے جان پر، وہ حساب آج چکا دیا

جو رکے تو کوہِ گراں تھے ہم، جو چلے تو جاں سے گزر گئے

رہِ یار ہم نے قدم قدم تجھے یادگار بنا دیا

کرو کج جبیں پہ سرِ کفن، مرے قاتلوں کو گماں نہ ہو

کہ غرورِ عشق کا بانکپن، پسِ مرگ ہم نے بھلا دیا

مگر چونکہ وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولِ مکرم ﷺ کی بارگاہ میں حضوری کے سفر پر جا رہے تھے، اس لیے غرورِ عشق کا بانکپن نہیں تھا بلکہ بندگی کا عجز تھا، غلامی کی تواضع تھی، اپنے آقا ﷺ کے حضور نیاز بھی اور اُن کی رحمت پر ناز بھی تھا۔ سر پر دستار سجی تھی، لبوں پر ہلکی سی تبسم کی کیفیت تھی۔

ظاهر و باطن کی یکسانیت اور مردِ مومن کا تبسم:

لوگوں کو گلہ رہتا تھا کہ علامہ خادم حسین رضوی رحمتہ اللہ علیہ کے چہرے پر ہمیشہ کرختگی اور غیظ و غضب کی کیفیت طاری رہتی ہے۔ یہ کیفیت دراصل گستاخانِ رسول ﷺ کے لیے تھی، دشمنانِ دین کے لیے تھی۔ اُن کا چہرہ اُن کی قلبی کیفیات کا آئینہ دار تھا، ظاہر و باطن ایک تھا، اُن کے عقائد و نظریات میں منافقت، ریا اور باطل سے مفاہمت کا شائبہ تک نہ تھا۔ دنیا والوں سے بے پرواہ رہے۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولِ مکرم ﷺ سے لو لگائے رہے۔

اُن کے ناقدین کو کیا خبر کہ اُنہوں نے اپنا تبسم کسی اور مرحلے کے لیے بچا رکھا تھا۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے:

نشانِ مردِ مومن با تو گویم

چوں مرگ آید، تبسم بر لبِ اوست

ترجمہ: اے مخاطب! تجھے مردِ مومن کی نشانی بتاتا ہوں، جب موت کا وقت آتا ہے تو اُس کے لبوں پر تبسم انگیز کیفیت ہوتی ہے۔

علامہ محیی الدین بن شرف النووی رحمتہ اللہ علیہ نے لکھا ہے:

ربیع بن حراش رضی اللہ تعالیٰ عنہ جلیل القدر تابعی تھے۔ دوسری صدی ہجری کے اوائل میں اُن کا وصال ہوا۔ زندگی بھر وہ نہیں ہنسے۔ اُنہوں نے قسم کھا رکھی تھی کہ اپنا انجام معلوم ہونے تک نہیں ہنسیں گے، سو زندگی بھر نہ ہنسے۔ مگر جب وفات پائی تو اُنہیں میت کو غسل دینے والے نے کہا کہ وہ مسلسل اپنے تخت پر مسکراتے رہے، اور ہم انہیں غسل دیتے رہے، اور یہ کیفیت آخر تک جاری رہی۔ اُن کی اس کیفیت کو دیکھ کر اُن کے بھائی ربیع نے بھی ایسی ہی قسم کھائی، اور ایسی ہی قابلِ رشک موت اُنہیں نصیب ہوئی۔

(شرح النووی علی مسلم، جلد ۱، صفحہ ۶۶)

مولانا آسی غازی پوری نے کہا تھا:

اب تو پھولے نہ سمائیں گے کفن میں، آسی

ہے شبِ گور بھی اس گُل سے ملاقات کی رات

اعلیٰ حضرت، امامِ اہلِ سنت، الشاہ امام احمد رضا قادری بریلویؒ نے بحرِ عشقِ مصطفیٰ ﷺ کی گہرائیوں میں ڈوب کر کہا:

جان تو جاتے ہی جائے گی، قیامت یہ ہے

کہ یہاں مرنے پہ ٹھہرا ہے نظارا تیرا

تجھ سے در، در سے سگ اور سگ سے ہے مجھ کو نسبت

میری گردن میں بھی ہے دور کا ڈورا تیرا

اس نشانی کے جو سگ ہیں، نہیں مارے جاتے

حشر تک میرے گلے میں رہے پٹا تیرا

ہماری یہ باتیں دیوانوں کی باتیں ہیں۔ عقل کے پرستار اور لبرل دانشور اسے نہ پڑھیں، ان کی صحت پر شاید اچھا اثر مرتب نہ ہو۔

کیا علامہ خادم حسین رضوی پلانٹڈ تھے؟ (ایک اہم اعتراض کا جواب)

حال ہی میں یوٹیوب چینل اسٹوڈیو فائیو کے لیے ایک انٹرویو میں مجھ سے سوال ہوا: ٫علامہ خادم حسین رضوی رحمتہ اللہ علیہ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ پلانٹ تھے، اس بارے میں آپ کیا کہتے ہیں؟

میں نے جواب میں عرض کیا: پلانٹڈ کے معنی ہیں کسی کا کاشت کیا ہوا پودا، کسی کی جانب سے اپنے ایجنڈے پر لانچ کیا ہوا فرد، الغرض ہمارے ہاں بدگمانی اور بدنیتی کا شعار عام ہے۔ سو میرا سوال یہ ہے کہ خادم حسین رضوی رحمتہ اللہ علیہ جیسے شاہکار کسی ٹکسال میں ڈھلتے ہیں یا کسی ادارے کی جانب سے پلانٹ کیے جاتے ہیں؟ تو آپ کی مشینیں اور ٹکسال بند تو نہیں ہو گئے؟ ایسا کوئی شاہکار دوسرا پیدا کر کے دکھائیے، اور پھر اسے ملک کے اندر اور بیرونِ ملک کروڑوں انسانوں کے دلوں میں بٹھا کر دکھا دیجیے۔ ہم آپ کی کرامت یا کرشماتی کمال کو تسلیم کر لیں گے۔

مسیحائی اور مردوں میں جان ڈالنے کا معجزہ اللہ تعالیٰ جل جلالہ نے مسیح علیہ السلام کو، اور اس سے بھی آگے بے جان میں جان ڈالنے کا اعجاز خاتم النبیین سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کو عطا فرمایاﷺ کو عطا فرمایا تھا۔ البتہ اگر ہم نادانوں کی بات پر کسی کو یقین آتا ہو تو ہمارا ایمان ہے کہ ایسے اشخاص اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولِ مکرم ﷺ کی جانب سے اپنے اور اپنے دین کی حفاظت کے لیے وقتاً فوقتاً بھیجے جاتے رہے ہیں اور بھیجے جاتے رہیں گے۔

رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے: اللہ تعالیٰ اس امت کے لیے ہر صدی کے سرے پر ایسے شخص کو مبعوث فرمائے گا جو اس امت کے لیے دین کو (ہر ملاوٹ اور باطل کی آمیزش سے پاک کر کے) پیش کرے گا۔

علامہ خادم حسین رضوی رحمتہ اللہ علیہ ایسے ہی اشخاص میں سے ایک تھے، جو روز بروز پیدا نہیں ہوتے، اللہ کی قدرت سے کبھی کبھار منصۂ شہود پر آ جاتے ہیں۔

ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے

بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

وصال کے آخری لمحات اور کشف کی کیفیت:

مفتی عابد مبارک راوی ہیں کہ علامہ خادم حسین رضوی رحمتہ اللہ علیہ کے جواں عمر صاحبزادے اور تحریکِ لبیک کے نومنتخب امیر عزیمت کے راہی، حافظ سعد حسین رضوی حفظہ اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ علامہ صاحب اپنے وصال سے کچھ پہلے کافی دیر تک اپنے تمام تر ہوش و حواس قائم رہتے ہوئے اُن سے باتیں کرتے رہے۔ اس وقت انہیں شدید بخار تھا۔سعد حسین رضوی بیان کرتے ہیں: میں نے باتوں کے دوران کہا: "ابا جی! ہم دونوں خاموشی سے مدینہ منورہ چلے جاتے ہیں۔"

انہوں نے پنجابی میں اپنے فرزند سے کہا: "جھلیا! (دیوانے) تینوں ہوش اے؟ میں کس منہ دے نال حضورﷺ دی بارگاہ وچ جانواں گا، میں زندہ آں تے حضورﷺ دی گستاخیاں ہوریاں نیں۔"

پھر باپ نے بیٹے سے کہا: میں تیری شادی دی تاریخ دسمبر وچ مقرر کر دتی اے، پر میں تیرا نکاح آپ نئیں پڑھاواں، میں کسی مولوی صاحب کولوں پڑھاواں گا۔ اپنی ماں نوں آکھیں: لفافہ بھاری جیا تیار کر کے رکھئے۔

اور واقعی وہ اپنے بیٹے کا نکاح نہ پڑھا سکے۔ اُن کی پیش گوئی کے مطابق کوئی اور ہی پڑھائے گا۔ اسی کو تصوف کی زبان میں "کشف" کہتے ہیں۔

مولانا سعد حسین رضوی حفظہ اللہ تعالیٰ بیان کرتے ہیں، پھر والد صاحب قبلہ نے کہا: "مجھے رضائی اُڑھا دو اور بتی بند کر دو۔اتنے میں انہوں نے جھرجھری لی، چہرہ قبلہ کی طرف ڈھلک گیا اور روح پرواز کر گئی۔

فَإِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، إِنَّ لِلّٰهِ مَا أَخَذَ وَلَهُ مَا أَعْطَى، وَكُلُّ شَيْءٍ عِنْدَهُ بِأَجَلٍ مُسَمًّى۔

انہوں نے خود اپنے ایک خطاب کے دوران کہا:

جب روح میرے پیراہنِ خاکی سے نکلی

تو روضے سے آواز آئی، او میرا فقیر آیا

امیر المجاہدین علامہ خادم حسین رضوی رحمتہ اللہ علیہ مولانا محمد علی جوہر کے اس شعر کا مصداق تھے:

توحید تو یہ ہے کہ خدا حشر میں کہہ دے

یہ بندہ دو عالم سے خفا میرے لیے ہے

انہوں نے اپنے ایک خطاب میں معترضین کو جواب دیتے ہوئے کہا:

منافق کسی حال میں راضی نہیں ہوتا۔ مولوی حق کے لیے نہ نکلے تو کہتے ہیں حرام خور ہو گیا، اور نکلے تو کہتے ہیں حلوا خطرے میں پڑ گیا، اور جب کامیابی ملتی ہے تو کہتے ہیں: اکیس کروڑ روپے لیے۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی ساری متاعِ زیست بارگاہِ رسالت مآب ﷺ میں لا کر پیش کر دی تو منافقین نے اسے ریاکاری سے تعبیر کیا، اور حضرت ابو عقیل انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ وہ شب بھر مزدوری کر کے دو کلو کھجور لے کر آئے تو منافقین نے کہا: اللہ کو اس حقیر صدقے کی کوئی حاجت نہیں ہے۔

آگے پتا چل جائے گا:

حشر کو ہوگا یہ معلوم کہ جیتا کون اور ہارا کون

ہم سوئے حشر چلیں گے شُبہِ ابرار کے ساتھ

قافلہ ہوگا رواں، قافلہ سالار کے ساتھ

یہ تو طیبہ کی محبت کا اثر ہے ورنہ

کون روتا ہے لپٹ کر در و دیوار کے ساتھ

حسینی کردار اور فکری بیداری: مفتی منیب الرحمٰن کا ذاتی تاثر

میں نے اُن کے سوم کی محفلِ ایصالِ ثواب میں اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہا تھا کہ علامہ خادم حسین رضوی رحمتہ اللہ علیہ دنیاوی رشتوں کے حوالے سے میرے کچھ نہیں تھے، لیکن دینی رشتے کے حوالے سے میرا سب کچھ تھے۔ میں تحریکِ لبیک پاکستان کا کبھی رکن نہیں رہا، مگر امیر المجاہدین علامہ خادم حسین رضوی رحمتہ اللہ علیہ، بانیِ تحریک، میرے قلب میں رچے بسے رہے۔

میں نے اپنی شعوری زندگی میں حسینیت کا نعرہ لگانے والے اور خونِ شہدائے کربلا کو لوگوں کی عقیدت کے آنسوؤں میں ڈھال کر اپنی جیبوں اور تجوریوں کو بھرنے والے تو بہت دیکھے ہیں، لیکن اپنے آپ کو حسینی کردار میں ڈھال کر یزیدِ وقت اور ہر باطل کے سامنے ڈٹ جانے والے بہت کم دیکھے ہیں۔

میں آج لاکھوں انسانوں کو گواہ بنا کر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولِ مکرم ﷺ کی بارگاہ میں شہادت دیتا ہوں کہ میرے ممدوح، امیر المجاہدین، شیخ الحدیث، استاذ العلماء، علامہ حافظ خادم حسین رضوی رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی بساط کے مطابق حسینی کردار کو زندہ کیا، نوجوانوں کے دلوں میں، انگ انگ میں، روئیں روئیں، ہر بُنِ مو اور ہر قطرۂ خون میں عشقِ مصطفیٰ ﷺ کو کوٹ کوٹ کر بھر دیا، اور اہلِ ایمان کے ایمان کی بیٹریوں کو عشقِ مصطفیٰ ﷺ کے کرنٹ سے چارج کیا، اور ایک ایسا روحانی کرنٹ دوڑا دیا کہ آنسو گیس کے گولوں کا ڈھیر بھی اُن کے عزم کو نہ توڑ سکا اور اُن کے پائے ثبات میں لغزش نہ آئی۔

فرمانِ مبارک حضور سیدنا امیر المجاہدین رحمۃ اللہ علیہ:

پوری دنیا کان کھول کر سن لے، میں محمدِ عربی ﷺ کا غلام ہوں۔

آپ کا ردِعمل:

تبصرے 0